حدیث نمبر: 3210
- " اكتب، فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا ، اسے یاد کرنے کی غرض سے لکھ لیتا تھا ، مجھے قریشیوں نے ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا : کیا تو ہر بات لکھ لیتا ہے ، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں ، جو ناراضگی اور خوشی میں باتیں کرتے ہیں ۔ پس میں نے لکھنا ترک کر دیا اور جب یہ ( قریشیوں والی بات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا : ” لکھتا رہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میرے منہ سے سوائے حق کے کچھ نہیں نکلتا ۔ “