کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: اونٹ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مالک کی شکایت کرنا
حدیث نمبر: 3187
- " ما لبعيرك يشكوك؟ زعم أنك سانيه حتى إذا كبر تريد أن تنحره (لا تنحروه واجعلوه في الإبل يكون معها) ".
حافظ محفوظ احمد
منہال بن عمرو ، سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میرا خیال ہے کہ جس کثرت سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اتنا کسی نے نہیں دیکھا ہو گا ، پھر انہوں نے بچے کا معاملہ ، کھجور کے دو درختوں کا معاملہ اور اونٹ کا معاملہ ذکر کیا ۔ اونٹ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تیرے اونٹ کو کیا ہوا ؟ یہ شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے سینچائی کے لیے رہٹ میں چلاتے رہے اور جب یہ بوڑھا ہو گیا تو تم اسے ذبح کرنا چاہتے ہو ، اس کو ذبح نہ کرو اور اسے اونٹوں میں چھوڑ دو ، ان کے ساتھ چلتا پھرتا رہے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3187