کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: خاوند کا بیوی کی تمنائیں پوری کرنا، گانے اور موسیقی کی حقیقت اور حکم
حدیث نمبر: 2580
- (يا حُمَيراءُ! أتحبِّينَ أن تنظُرِي إليهم؟! يعني: إلى لعِبِ الحبشةِ ورقصِهم في المسجدِ) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں : حبشی لوگ مسجد میں داخل ہوئے اور کھیلنے لگ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ” حمیرا ! ان کو دیکھنا پسند کرو گی ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو گئے ، میں آئی اور اپنی ٹھوڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھ دی اور چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کے ساتھ لگا دیا ۔ وہ کہتی ہیں : اس دن انہوں نے ( ‏‏‏‏جو کچھ کہا تھا ) اس میں یہ بات بھی تھی : اے ابو قاسم ! ( ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ آپ کو ) طیب ( ‏‏‏‏بنا دے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” کافی ہے ؟ “ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جلدی مت کیجئیے ۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے کھڑے رہے اور ( ‏‏‏‏کچھ دیر بعد پھر ) فرمایا : ” اب کافی ہے ؟ “ میں نے کہ : اے اللہ کے رسول ! جلدی نہ کریں ۔ وہ کہتی ہیں : ( ‏‏‏‏دراصل ) مجھے ان کی طرف دیکھنے کا شوق نہیں تھا ، میں تو یہ چاہتی تھی کہ عورتوں کو پتہ چل جائے کہ میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‏‏‏‏ کا کیا مرتبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری کیا قدر ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2580
حدیث نمبر: 2581
- (يا عائشةُ! أتعرفين هذه؟ قالت: لا، يا نبيَّ اللهِ! قال: هذه قينةُ بني فلان، تحبِّين أن تُغنِّيكِ؟ قالت: نعم، قال: فأعطاها طبقاً فغنَّتها، فقال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: قد نفح الشَّيطانُ في مِنخرَيها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”عائشہ ! تم اسے جانتی ہو ؟“ انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ بنو فلاں کی مغنیہ ہے ، کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہارے لیے گائے ؟“ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا‏‏‏‏س کو تھال دیا ، سو ا‏‏‏‏س نے ا‏‏‏‏س پر گایا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ شیطان نے ا‏‏‏‏س کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2581