حدیث نمبر: 2570
- (والذي نفس محمد بيده! لا تقوم الساعة حتى يظهر الفحش والبخل، ويخوَّن الأمين، ويؤتمن الخائن، ويهلك الوعول، وتظهر التُّحوت. قالوا: يا رسول الله! وما الوعول وما التحوتُ؟ قال: الوعول: وجوه الناس وأشرافهم، والتحوت: الذين كانوا تحت أقدام الناس لايعلم بهم) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! قیامت اس وقت قائم ہو گی ، جب بےحیائی اور بخل ظاہر ہو جائے گا ، امین کو خائن اور خائن کو امین بنا لیا جائے گا ، «وعول» ہلاک ہو جائیں گے اور «تحوت» منظر عام پر آ جائیں گے ۔“ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! «وعول» اور «تحوت» کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «وعول» سے مراد سردار اور معزز لوگ ہیں اور «تحوت» سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو لوگوں کے پاؤں تلے تھے اور ان کو کوئی نہیں جانتا تھا ۔“