حدیث نمبر: 2564
- (مَنْ صبرَ على شِدَّتِها ولأْوَائِها؛ كنتُ له شهيداً أو شفيعاً يومَ القيامةِ. يعني: المدينةَ. وفي لفظ: لا يَصبرُ على لأوَائِها وشدتِها أَحَدٌ إلا كنتُ.....) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ان کی لونڈی ان کے پاس آئی اور کہا : مجھ پر وقت بہت سخت ہو گیا ہے اور میں عراق جانے کا ارادہ کرتی ہوں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : تم شام کی طرف کیوں نہیں جاتی ، جو حشر کی جگہ ہے ؟ ارے بیوقوف ! صبر کر ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ”جس نے اس ( مدینہ ) کی سختی اور تنگی پر صبر کیا ، میں روز قیامت اس کا گواہ یا سفارشی ہوں گا ۔“ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ”جو کوئی اس ( مدینہ ) کی سختی اور تنگی پر صبر کرے گا تو میں . . .“ ( اس کے لیے قیامت کے روز سفارشی ہوں گا )۔