حدیث نمبر: 2503
- (إئما مثل الجليس الصالح والجليس السوء: كحامل المسك ونافخ الكير؛ فحامل المسك؛ إما أن يُحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحاً طيبة، ونافخ الكير؛ إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد [منه] ريحاً خبيثة) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھے ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی ہے ۔ کستوری اٹھانے والا یا تو تجھے کستوری تحفۃ دے دے گا یا تو اس سے خرید لے گا ( اور یہ دونوں صورتیں نہ ہونے کی صورت میں کم از کم ) تو اس سے اچھی خوشبو تو پا لے گا ۔ ( رہا مسئلہ ) بھٹی جھونکنے والے کا تو یا تو وہ تیرے کپڑے جلا دے گا یا تو اس سے گندی ہوا پائے گا ۔ “