کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کا مطالبہ پورا کرنے والے تھے
حدیث نمبر: 2500
- " كان لا يسأل شيئا إلا أعطاه، أو سكت ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہوازن قبیلہ کے لوگ حنین والے دن عورتوں ، بچوں ، اونٹوں اور بکریوں سمیت آ گئے ۔ ان کو قطاروں میں کھڑا کر دیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنی کثرت کو ظاہر کریں ۔ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ “ مزید فرمایا : ” انصار کی جماعت ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ “ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دے دی ، نہ کسی کو نیزے کا زخم لگا تھا اور نہ تلوار کی چوٹ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا : ” جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا مال اسی ( قاتل ) کے لیے ہو گا ۔ “ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمی قتل کئے اور ان کا مال و متاع بھی لے لیا ۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک آدمی کے کندھے کے پٹھے پر تلوار ماری اور اس پر زرہ تھی ۔ اس کا چھینا ہوا مال میرے پکڑنے سے پہلے کسی اور نے لے لیا ، اے اللہ کے رسول ! ذرا دیکھئیے ، وہ شخص کون ہے ؟ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے وہ مال لے لیا تھا ۔ آپ قتادہ کو اپنے پاس سے راضی کر دیں اور وہ مال میرے پاس ہی رہنے دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور آپ سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا جاتا ، آپ دے دیتے تھے ، یا پھر خاموش ہو جاتے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ایسے نہیں ہو گا کہ ) الله تعالیٰ نے اپنے شیروں میں سے ایک شیر کو مال دیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے دے دیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے ۔