حدیث نمبر: 2498
- (إنَّ من أشدِّ النَّاسِ بلاءً الأنبياء، ثمّ الذين يلونهم، ثمّ الذين يلونَهم، ثمّ الذين يلونَهم) .
حافظ محفوظ احمد
حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے ابوعبیدہ بن حذیفہ سے سنا ، وہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : ہم چند عورتیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں ، بخار کی حرارت کی شدت کی وجہ سے ایک مشکیزہ آپ کی طرف لٹکا ہوا تھا ، اس کا پانی آپ پر اور ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر گر رہا تھا ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو آپ کو شفا دے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے ، پھر ان پر جو ( مرتبے میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر ان پر جو ان کے قریب ہیں ، اور پھر ان پر جو ان کے قریب ہوں ۔ “