حدیث نمبر: 2493
- (إنِّ صاحب السٌّلطان على باب عنتٍ؛ إلاّ من عصم اللهُ عزّ وجلّ) .
حافظ محفوظ احمد
حمید سے روایت ہے ، وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو لشکر کا امیر مقرر کیا ، وہ چلا گیا اور جب آپ کی طرف واپس لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تم نے امارت کو کیسا پایا ؟ “ اس نے کہا : بس میں بعض لوگوں کی طرح ہی رہا ، جب میں سوار ہوتا تو وہ بھی سوار ہو جاتے اور جب میں اترتا تو وہ بھی اتر جاتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بےشک امیر راہ گناہ پر ہوتا ہے ، مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ۔ “ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ( آئندہ ) آپ کا عامل بنوں گا نہ کسی اور کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں ۔