کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: گفتگو میں تصنع
حدیث نمبر: 2487
- (إنّ الله لا يحبّ هذا وضَرْبَهُ (¬1) ؛ يلوُون ألسنتَهم للنّاس ليّ البقرة لسانَها بالمرعى! كذلك يلوي الله ألسنتهم ووجوهَهم في النّارِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا واثلہ بن اسقع سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں سے تھا ، میں نے دیکھا ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں سے کسی شخص کے پاس مکمل لباس نہیں تھا اور گرد و غبار اور میل کچیل کی وجہ سے پسینے سے ہمارے جسم پر لکیریں پڑ جاتی تھیں ۔ ( ‏‏‏‏ایک دن ) اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” فقراء مہاجرین کے لیے خوشخبری ہو ۔ “ ہمارے پاس اچانک ایک اچھے لباس والا آدمی آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کلام بھی ارشاد فرماتے ، وہ تکلفاً آپ کی کلام سے افضل کلام کرتا ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ اس کو اور اس جیسے شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔ جو چراگاہ میں ( ‏‏‏‏چرنے والی ) گائیوں کی طرح اپنی زبانوں کو لوگوں کے لیے مروڑتے ہیں ، اللہ تعالیٰ بھی ان کے چہروں اور زبانوں کو آگ میں مروڑے گا ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2487