کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نبی کا ظاہر اور باطن یکساں ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2476
- " إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة الأعين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : فتح مکہ والے دن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کے پاس چھپ گئے ، وہ اسے لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لیں ، آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تین دفعہ اس کی طرف دیکھا ، ہر مرتبہ آپ انکار کر رہے تھے ، تین دفعہ ایسا کرنے کے بعد آپ نے بیعت لے لی ۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں ایسا کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب وہ مجھے دیکھتا کہ میں ا‏‏‏‏س کی بیعت سے اپنا ہاتھ روک رہا ہوں تو کھڑا ہوتا اور اس کو قتل کر دیتا ؟ “ ‏‏‏‏صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کے دل کی بات نہیں جانتے ۔ آپ نے ہماری طرف اپنی آنکھوں سے اشارہ کیوں نہیں کر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ‏‏‏‏کسی نبی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ آنکھوں سے خیانت کرے ۔ “ ‏‏‏‏
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2476