کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: اسلام میں لوگوں کی اقسام
حدیث نمبر: 2474
- " أما بعد أيها الناس، فإن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية، الناس رجلان: بر تقي كريم على ربه، وفاجر شقي هين على ربه، ثم تلا: * (يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا) * حتى قرأ الآية، ثم قال: أقول هذا وأستغفر الله لي ولكم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی قصوا اونٹنی پر طواف کیا اور اپنی لاٹھی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا ، اونٹنی کو مسجد میں بٹھانے کے لیے کوئی جگہ نہ ملی ، اس لیے اس کو وادی کے ہموار حصے کی طرف لے جا کر بٹھا دیا گیا ۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا : «أما بعد» اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت ختم کر دی ہے ۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں : ( ‏‏‏‏۱ ) نیک ، متقی اور اپنے رب کے ہاں بزرگی والے ( ‏‏‏‏۲ ) گناہگار ، بدبخت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیر ۔ “ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف ذاتوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم پہچانے جاؤ ۔ پھر آپ نے پوری آیت تلاوت کی اور آخر میں فرمایا : ” میں یہی کچھ کہنا چاہتا تھا ، ( اب ) میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے بخشش طلب کرتا ہوں ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2474