حدیث نمبر: 2470
- (ألا هل عَسَتِ امرأةٌ أن تُخبرَ القوم بما يكونُ من زوجها إذا خلا بها؟! ألا هل عسى رجلٌ أن يخبرَ القوم بما يكونُ منهُ إذا خلا بأهله؟ ! فقامت منهنَّ امرأةٌ سفعاءُ الخدَّين فقالت: واللهِ! إنَّهُم ليفعلون، وإنهنَّ لَيفعلْنَ! قال: فلا تفعلوا ذلكَ، أفلا أنبئُكم ما مَثَلُ ذلكَ؟ ! مَثَلُ شيطانٍ أتى شيطانةً بالطريق؛ فوقعَ بها والناس ينظرون!) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں کچھ انصاری عورتیں موجود تھیں ۔ آپ نے ان کو وعظ کیا اور نصیحتیں فرمائیں ، پھر ان کو حکم دیا کہ وہ صدقہ کیا کریں ، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کریں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا کوئی ایسی عورت ہے جو لوگوں کو اپنے خاوند کے ساتھ تنہائی میں ہونے والے معاملات بتاتی ہو ؟ کیا کوئی ایسا مرد ہے جو لوگوں کو اپنی بیوی کے ساتھ تنہائی والا معاملہ بتاتا ہے ؟ “ چنانچہ ان عورتوں میں سے ایک غبار آلود رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی اور کہا : اللہ کی قسم ! مرد بھی ایسا کرتے ہیں اور عورتیں بھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا مت کرو ۔ کیا میں تم کو اس کی مثال نہ بتلا دوں ؟ ایسی باتیں بیان کرنے والا اس شیطان کی مانند ہے جو سرراہ مؤنث شیطان کے ساتھ مباشرت کرے اور لوگ ان کو دیکھ رہے ہوں ۔ “