حدیث نمبر: 2443
- (1- إذا اقتربَ الزمانُ لم تَكَدْ رُؤيا المسلم تَكذبُ. 2- وأَصْدَقُهُم رؤيا أصدقهم حديثاً. 3 - ورؤيا المسلمِ جُزءٌ من ستةٍ وأربعينَ جزءاً من النبوة. قال: وقال: 4- الرؤيا ثلاثةٌ: فالرؤيا الصالحةُ بُشْرَى من الله عز وجل، والرؤيا تَحزِينٌ من الشيطان، والرؤيا من الشيء يُحَدِّثُ به الإنسانُ نفسَهُ. 5- فإذا رأى أحدُكُم ما يَكرَهُ فلا يُحَدِّثهُ أحداً، وَلْيَقُمْ فَلْيصلِّ. قال: 6 - وأُحِبُّ القَيْدَ في النومِ، وأكرهُ الغُلَّ، القَيدُ: ثباتٌ في الدِّين) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ١ ) جب زمانہ ( قیامت کے ) قریب ہو جائے گا تو ایسا نہیں ہو گا کہ مسلمان کا خواب جھوٹا ثابت ہو ( ٢ ) اور زیادہ سچا خواب اس شخص کا ہو گا جو ان میں سے گفتگو کے لحاظ سے زیادہ سچا ہو گا ( ۳ ) مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔ “ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ۴ ) خواب کی تین ( اقسام ) ہیں : نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہے ، برا خواب شیطان کی طرف سے رنج و غم ہے اور ( ان کے علاوہ ) عام چیزوں سے متعلقہ خواب انسان کے اپنے خیالات ہیں ۔ ( ۵ ) جب تم میں سے کوئی آدمی کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کو بیان نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے ( ۶ ) میں خواب میں زنجیر کو پسند اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ۔ دراصل زنجیر سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے ۔ “