حدیث نمبر: 2438
- (كذلك سَوْقُكَ بالقوارير، يعني النساء. قاله - صلى الله عليه وسلم - في حجة الوداع) .
حافظ محفوظ احمد
سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ حج کیا ، دوران سفر ایک آدمی اترا ، اور امہات المؤمنین کی سواریوں کو تیزی سے چلایا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس طرح شیشوں کو لے کر چلتے ہیں ؟“ سو وہ چل رہے تھے کہ سیدہ صفیہ بنت حی کا اونٹ بیٹھ گیا ، حالانکہ ان کی سواری سب سے اچھی تھی ، وہ رونے لگ گئیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے ان کے آنسو پونچھنے لگ گئے ، وہ اور زیادہ رونے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو منع کرتے رہے ۔ جب وہ بہت زیادہ رونے لگ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور لوگوں کو اترنے کا حکم دے دیا ، سو وہ اتر گئے ، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اترنے کا ارادہ نہیں تھا ۔ وہ کہتی ہیں : صحابہ کرام اتر پڑے اور اس دن میری باری تھی ۔ جب صحابہ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا گیا ، آپ اس میں داخل ہو گئے ۔ وہ کہتی ہیں : یہ بات میری سمجھ میں نہ آ سکی کہ میں کیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھس جاؤں اور مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ ( ممکن ہے کہ ) آپ کے دل میں میرے بارے میں کوئی ناراضگی ہو ۔ وہ کہتی ہیں : ( بہرحال ) میں سیدہ عائشہ کے پاس گئی اور ان سے کہا : تم جانتی ہو کہ میں کسی چیز کے عوض اپنے دن کا سودا نہیں کروں گی ، لیکن میں تجھے اپنی باری کا دن اس شرط پر ہبہ کرتی ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کروا دو ۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ اب وہ کہتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زعفران میں رنگی ہوئی چادر لی اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو تروتازہ ہو جائے ، پھر اپنے کپڑے زیب تن کیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلی گئی اور ( جا کر ) خیمے کا ایک کنارہ اٹھایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”اے عائشہ ! تجھے کیا ہوا ؟ یہ دن تیرا تو نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے ، عطا کرتا ہے ۔ آپ اپنی اہلیہ کے پاس ہی ٹھہرے رہے ۔ جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش سے فرمایا : ”اے زینب ! اپنی بہن صفیہ کو ایک اونٹ مستعار دے دو ۔“ دراصل ان کے پاس سواریاں زیادہ تھیں ۔ لیکن زینب نے کہا : کیا میں آپ کی یہودیہ کو مستعار دے دوں ؟ یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ناراض ہو گئے اور قطع کلامی کر لی اور اس سے کوئی بات نہ کی ، حتی کہ مکہ پہنچ گئے ، پھر آپ کے سفر میں منیٰ والے دن ( بھی بیت گئے ) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آ گئے اور محرم اور صفر کے ( دو ماہ ) بھی گزر گئے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ زینب کے پاس گئے اور نہ اس کے لیے کوئی باری تقسیم کی ۔ وہ بھی آپ سے ناامید ہو گئیں ۔ جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو آپ اس کے پاس گئے ۔ زینب نے آپ کا سایہ دیکھا اور کہا : یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہے اور آپ تو میرے پاس آتے ہی نہیں ، سو یہ ( سائے والا ) کون ہو سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس داخل ہوئے ، جب زینب نے آپ کو دیکھا تو کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے آنے سے ( مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے ) کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں ۔ وہ کہتی ہیں : ان کی ایک لونڈی تھی ، جس کو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رکھتی تھیں ۔ پھر اس نے کہا : فلاں لونڈی آپ کے لیے ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب کی چارپائی کی طرف گئے ، جسے اٹھا دیا گیا تھا ، آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے بچھایا ، پھر اپنی اہلیہ سے مباشرت کی اور ان سے راضی ہوئے ۔