حدیث نمبر: 2437
- " أما كان فيكم رجل رحيم؟! ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ، انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا ، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا ، جس نے لشکر والوں سے کہا : میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں ، مجھے تو فلاں عورت سے عشق ہے ، سو میں اس سے آ ملا ۔ مجھے جانے دو تاکہ اسے ایک نظر دیکھ سکوں ، پھر میرے ساتھ جو چاہنا کر گزرنا ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک دراز قد کی گندمی عورت ہے ۔ اس نے اسے کہا : اے حبیش ! زندگی ختم ہونے سے پہلے مان جا ۔ کیا خیال ہے تیرا اگر میں تمہارا پیچھا کروں اور تمہیں حلیہ چشمے پر یا پہاڑوں کی تنگ گھاٹیوں میں جا ملوں ، کیا عاشق کا یہ حق نہیں ہے کہ اس کو رات بھر اور گرمی کی شدت میں چلنے کا انعام دیا جائے ؟ اس عورت نے کہا : میں نے اپنا آپ تجھ پہ فدا کر دیا ہے ۔ انہوں نے اسے آگے کیا اور اس کی گردن کاٹ دی ۔ پھر وہ عورت آئی ، اس پر کھڑی ہوئی اور زور سے چیخ ماری اور پھر وہ مر گئی ۔ جب وہ لشکر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو اس کے متعلق خبر دی ۔ آپ نے فرمایا : ”کیا تم میں کوئی بھی رحم دل آدمی نہ تھا ۔“