حدیث نمبر: 2416
- (ألا أدُلُّكم على مَن هو أشدُّ منه؟ (يعني: الصَّريعَ) رجل ظلمَه رجل، قكظم غيظه؛ فغلبه، وغلب شيطانه، وغلب شيطان صاحبه، (وفي رواية) : الذي يملك نفسه عند الغضب) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو پتھر اٹھا رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ پتھر اٹھا رہے ہیں ۔ ان کی مراد لوگوں کی مضبوطی ( اور طاقت ) بیان کرنا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے ؟ یہ وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول رکھتا ہے ۔ “ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے ، جو کشتی کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ فلاں پہلوان ہے ، جو کشتی میں ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسا شخص نہ بتاؤں ، جو اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے ۔ یہ وہ آدمی ہے ، جس پر کسی شخص نے زیادتی کی ہو ۔ لیکن وہ اپنا غصہ پی گیا ہو اور اس طرح ( ظالم ) پر ، اپنے شیطان پر اور اپنے مقابل کے شیطان پر غالب آ گیا ہو ۔ “ یعنی اس نے تینوں کو پچھاڑ دیا ۔
حدیث نمبر: 2417
- (ما تَعُدُّون الرَّقُوب فيكم؟ قال: قلنا: الذي لا يولدُ له. قالَ: ليسَ ذاكَ بالرّقُوبِ، ولكنّه الرّجلُ الذي لم يقدِّم من ولده شيئاً. قال: فما تعدُّون الصُّرَعةَ فيكُم؟ قال: قلنا: الذي لا يصرَعُه الرجِال. قال: ليسَ بذلكَ، ولكنّه الذي يملِكُ نفسهُ عند الغَضَبِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مابین کس کو ” «رقوب» “ یعنی لاولد شمار کرتے ہو ؟ “ صحابہ نے کہا : جس کی اولاد نہیں ہوتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسے آدمی کو «رقوب» نہیں کہتے ، بلکہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے اپنی اولاد میں سے ( کوئی بچہ ) آگے نہ بھیجا ہو ۔ ( یعنی اس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو ) “ پھر فرمایا : ” تم کس کو زبردست پہلوان شمار کرتے ہو ؟ “ صحابہ نے کہا : جسے کوئی آدمی پچھاڑ نہ سکے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا شخص تو پہلوان نہیں ہوتا ، بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کی وقت اپنے نفس پر قابو پا لے ۔ “