کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو کنیت سے پکارنا
حدیث نمبر: 2351
- " خياركم من أطعم الطعام ".
حافظ محفوظ احمد
حمزہ بن صہیب ، اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا : تو بڑا اچھا آدمی ہے ، کاش تجھ میں تین ( ‏‏‏‏نامناسب ) صفات نہ ہوتیں ۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ کون سی ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تو نے کنیت رکھی ہوئی ہے ، حالانکہ تیری اولاد نہیں ہے ، تو عرب کی طرف منسوب ہوتا ہے ، حالانکہ تو رومی ہے اور تو لوگوں کو کھلانے میں اسراف سے کام لیتا ہے ۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کا ( ‏‏‏‏یہ اعتراض کہ ) کہ میں نے کنیت رکھی ہوئی ہے ، حالانکہ میرا کوئی لڑکا نہیں ہے ( تو اس کا جواب یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میری کنیت ابویحیٰی رکھی تھی ۔ آپ کا ( دوسرا اعتراض کہ ) میں نے اپنے آپ کو عربوں کی طرف منسوب کر رکھا ہے ، حالانکہ میں ان میں سے نہیں ہوں ، بلکہ رومی ہوں ( ‏‏‏‏تو اس کا جواب یہ ہے کہ ) میں قبیلہ نمر بن قاسط سے ہوں ، رومیوں نے مجھے موصل سے قید کر لیا ، میں اس وقت نوجوان تھا اور اپنا نسب پہچانتا تھا اور آپ ( ‏‏‏‏کا یہ اعتراض کہ ) میں کھانا کھلانے میں اسراف کرتا ہوں تو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ” تم میں سے بہترین شخص وہ ہے ، جو کھانا کھلائے ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2351