حدیث نمبر: 2336
- " أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا، إلا ما لا، يعني: ما لابد منه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا : (یہ کیا ہے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا ، جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا ۔ آپ نے اس سے اعراض کیا ، اس نے کئی مرتبہ سلام کہا ( لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کرتے رہے ) بالآخر اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا ، اس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا: (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا ۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اس کو گرا کر زمین کے برابر کر دیا ۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”گنبد کا کیا بنا ؟ صحابہ نے کہا: اس کے مالک نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ رکھا تھا ، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی ، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”خبردار ! ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے ، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ نہیں ۔ “
حدیث نمبر: 2337
- " إن الرجل يؤجر في نفقته كلها إلا في هذا التراب ".
حافظ محفوظ احمد
ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ جنہوں نے اپنے بدن پر سات داغ لگائے ہوئے تھے ، کے پاس بیمار پرسی کے لیے گئے ۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو : موت کی تمنا نہ کیا کرو۔ فرماتے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا ۔ وہ اپنی دیوار (یعنی مکان وغیرہ) درست کر رہے تھے ، اسی اثنا میں انہوں نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ’’ آدمی کو اس کے ہر قسم کے خرچے پر اجر دیا جاتا ہے مگر اس مٹی میں (یعنی مکان تعمیر کرنے میں کوئی اجر نہیں) ۔“