کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: برائیوں کا نیکیوں میں بدل جانا، اسلام قبول کرنے، نیکیاں کرنے اور براییاں ترک کرنے کی برکتیں
حدیث نمبر: 2332
- (نَعَم، تفعلُ الخيرات، وتتركُ السيئات، فيجعلُهنَّ اللهُ لكَ خيراتٍ كلَّهنَّ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابو طویل شطب ممدود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس آئے اور کہا: ایسے آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے تمام گناہوں کا ارتکاب کیا ہو اور کوئی گناہ نہ رہنے دیا ہو اور اس سلسلے میں اس نے اپنی ہر چھوٹی بڑی (بری) حاجت اور خواہش پوری کر لی ہو ۔ کیا ایسے شخص کے لیے بھی کوئی توبہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تو مسلمان ہو گیا ہے ؟“ اس نے کہا: بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ” (ایسے آدمی کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ، لیکن بات یہ ہے کہ) تو اعمال صالح کرتا رہ اور برائیاں ترک کر دے ، اللہ تعالیٰ تیرے تمام گناہوں کو نیکی میں تبدیل کر دے گا ۔“ اس نے کہا: میرے تمام فریبوں اور ساری بدکاریوں (کو بھی نیکیوں میں تبدیل کر دیا جائے گا) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ۔“ اس نے کہا: اللہ اکبر ، پھر وہ غائب ہونے تک اللہ اکبر کہتا چلا گیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2332
حدیث نمبر: 2333
- (يُؤتَى بالرجل يوم القيامة فيُقالُ: اعرِضوا عليه صغارَ ذُنُوبِهِ. فتُعرضُ عليه، ويُخَبَّأُ عنه كبارُها، فيُقالُ: عملت يوم كذا وكذا؛ كذا وكذا، وهو مُقرٌّ لا يُنكرُ، وهو مُشفِقٌ من الكبارِ، فيُقالُ: أعطُوهُ مكان كلِّ سيئةٍ عَمِلَها حسنةً. قال: فيقول: إنَّ لي ذنوباً ما أراها هَهُنا. قال أبو ذرٍّ: فلقد رأيتُ رسولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ضَحِكَ حتى بَدَتْ نَواجِذُهُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس پر اس کے صغیرہ گناہ پیش کرو، سو وہ اس پر پیش کئے جائیں گے اور اس کے کبیرہ گناہوں کو پوشیدہ رکھا جائے گا اور (اقرار کروانے کے لیے ) اسے کہا جائے گا : کیا تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا ؟ (جواباً) وہ اقرار کرے گا اور انکار نہیں کرے گا ، لیکن اپنے کبیرہ گناہوں (کی پیشی سے ) ڈر رہا ہو گا ۔ (اتنے میں کہا: جائے گا : اس کے ہر گناہ کے عوض اس کو نیکی عطا کر دو ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ (رحمت ایزدی کا یہ عالم دیکھ کر) وہ بندہ کہے گا : میرے تو کچھ اور گناہ بھی تھے ، وہ مجھے یہاں نظر نہیں آ رہے ۔ “ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ بات کہہ کر) ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2333
حدیث نمبر: 2334
- (لَيَتَمَنَّيَنَّ أقوامٌ لو أَكثَرُوا مِنَ السَّيِّئاتِ. قالوا: بم يا رسول الله؟ قال: الذِينَ بَدَّلَ اللهُ سَيِّئاتِهم حَسَناتٍ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کئی لوگ یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ زیادہ برائیاں کر کے لاتے ۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ وہ لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ جن کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2334