کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: اعمال صالحہ انسان کو جنت میں داخل نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی . . .
حدیث نمبر: 2330
- (يا أسَدُ بْنَ كُرْزٍ! لا تدخلُ الجنةَ بعملٍ، ولكن برحمةِ الله، [قلتُ: ولا أنتَ يا رسول الله؛ قال:] ولا أنا؛ إلا أن يتلافاني الله، أو يتغمدني [الله] منه برحمةٍ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”اے اسد بن کرز ! تو اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بل بوتے پر ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اور آپ بھی (اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل) نہیں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ہاں) میں بھی نہیں ، ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا (تو جنت میں داخل ہو جاؤں گا ۔)“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2330
حدیث نمبر: 2331
- " لن يدخل أحدا منكم عمله الجنة [ولا ينجيه من النار] ، قالوا: ولا أنت يا رسول الله؟ قال: ولا أنا -[وأشار بيده هكذا على رأسه:]- إلا أن يتغمدني الله منه بفضل ورحمة، [مرتين أو ثلاثا] [فسددوا وقاربوا] [ وأبشروا] [واغدوا وروحوا، وشيء من الدلجة، والقصد القصد تبلغوا] [ واعلموا أن أحب العمل إلى الله أدومه وإن قل] ".
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کو نجات دلائے گا ۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اور آپ کو بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہاں ! نہ ہی مجھے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا ۔ ”ہاں اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے ڈھانپ لے (تو کام بن جائے گا) ۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دفعہ ذکر کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رائے صواب پر چلتے رہو ، میانہ روی اختیار کرو ، خوشخبریاں سناتے رہو اور صبح کو ، شام کو اور کچھ وقت رات کو عبادت کرتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو ، اعتدال کو اپناو ، منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے اور جان لو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے ، جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو ۔“ یہ حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے، ان میں سیدنا ابوہریرہ ، سیدہ عائشہ ، سیدنا جابر، سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2331