کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: صغیرہ گناہوں سے اجتناب بھی ضروری ہے، چھوٹے گناہوں کی کثرت بھی مہلک ہے
حدیث نمبر: 2318
- " إياكم ومحقرات الذنوب كقوم نزلوا في بطن واد فجاء ذا بعود وجاء ذا بعود حتى أنضجوا خبزتهم وإن محقرات الذنوب متى يؤخذ بها صاحبها تهلكه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سہل بن سعد رضی اللٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ صغیرہ گناہوں سے گریز کرو ۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو ، غور فرماؤ کہ) کی کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں ، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے . . . (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹی پکا لیتے ہیں ۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2318
حدیث نمبر: 2319
- (إياكم ومُحقراتُ الذنُوبِ، كقَومٍ نَزلُوا في بطْنِ وادٍ فجاءَ ذا بعودٍ، وجاء ذا بعودٍ حتى أنضَجُوا خبزتهم، وإنَّ محقَّراتِ الذُّنوب متى يُؤخذ بها صاحبُها تُهلِكْهُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم ان گناہوں سے بچو جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے ۔ جن گناہوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے ، ان کی مثال ایسے لوگوں کی مانند ہے جنہوں نے ایک وادی میں پڑاؤ ڈالا ، ایک آدمی ایک لکڑی لے آیا ، دوسرا ایک اور لے آیا ، حتیٰ کہ (اتنی لکڑیاں جمع ہو گئیں کہ) انہوں نے اپنی روٹی پکا لی اور بے شک جب حقیر گناہوں کے مرتکب کا مؤاخذہ کیا جائے گا تو وہ اس کو ہلاک کر دیں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2319
حدیث نمبر: 2320
- " يا عائشة! إياك ومحقرات الذنوب، فإن لها من الله طالبا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”اے عائشہ ! حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے گریز کرنا ، یقیناً ان کے متعلق بھی اللہ کی طرف سے باز پرس ہو گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المواعظ والرقائق / حدیث: 2320