کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: مختلف اسباب کی بنا پر ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے
حدیث نمبر: 2265
- " لو تدومون على ما تكونون عندي في الخلاء لصافحتكم الملائكة حتى تظلكم بأجنحتها عيانا، ولكن ساعة وساعة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ میں پسندیدہ صفات نظر آتی ہیں ، لیکن جب ہم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹتے ہیں اور ان میں مل جل کر رہتے ہیں تو خود کو گنہگار سمجھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم اپنی خلوتوں میں اسی حالت پر قائم رہو جس پر میرے ہاں ہوتے ہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں گے اور اپنے پروں سے تم پر اس طرح سایہ کریں گے کہ ہر کوئی دیکھ سکے گا ۔ (دراصل حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ اور کبھی وہ ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / التوبة والمواعظ والرقائق / حدیث: 2265
حدیث نمبر: 2266
- " لو تكونون كما تكونون عندي لأظلتكم الملائكة بأجنحتها ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم لوگ (ایمان و ایقان کی اسی) حالت و کیفیت پر برقرار رہو جس پر میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تم پر اپنے پروں سے سایہ کرنا شروع کر دیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / التوبة والمواعظ والرقائق / حدیث: 2266
حدیث نمبر: 2267
- " والذي نفسي بيده إن لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن يا حنظلة! ساعة وساعة، ثلاث مرات ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ ، جو آپ کے کاتبین میں سے تھے ، بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھے کہا: حنظلہ ! کیا حال ہے ؟ میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ! (بڑا تعجب ہوا) کیا کہہ رہے ہو تم ؟ میں نے کہا: (حقیقت یہ ہے کہ) جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں ، آپ ہم کو جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ و نصیحت کرتے ہیں (تو ایسے لگتا ہے کہ) ہم جنت و دوزخ کو روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی آل و اولاد اور مال و منال میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں بہت سی چیزیں بھول جاتی ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ شکوہ تو ہمیں بھی ہے ، سو میں اور ابوبکر چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیسے ؟“ میں نے کہا: جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جنت و دوزخ کا وعظ کرتے ہیں ( تو ہماری روحانی رغبت و رہبت کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ) گویا کہ ہم جنت و جہنم کو دیکھ رہے ہیں ، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اہل و عیال اور ساز و سامان میں مشغول ہو جاتے ہیں تو (ایسی کیفیتوں کو) بھول جاتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم لوگ اسی حالت پر برقرار رہتے جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور اللہ کے ذکر میں محو رہتے تو فرشتے تمہارے بچھونوں اور شاہراہوں پر تم سے مصافحہ کرنے کے لیے آتے ۔ لیکن حنظلہ ! (حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ حالت ہوتی ہے اور کبھی وہ ۔ “ آپ نے یہ جملہ تین دفعہ دوہرایا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / التوبة والمواعظ والرقائق / حدیث: 2267