کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن کب؟۔ صحت، غنی سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 2212
- " لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى، وطيب النفس من النعيم ".
حافظ محفوظ احمد
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے باپ سے ، وہ اپنے چچا سیدنا یسار بن عبداللہ جہنی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی کے نشانات تھے ۔ ہم میں سے کسی نے کہا: آج ہم آپ کو (پہلے کی بہ نسبت) خوشگوار موڈ میں دیکھ رہیں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، (بات ایسے ہی ہے ) اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ۔“ پھر لوگ مالداری کی باتوں میں مشغول ہو گئے ، آپ نے ان کی گفتگو سن کر فرمایا : ”اگر آدمی متقی ہو تو مالدار ہونے میں کوئی حرج نہیں ، بہرحال پرہیزگار آدمی کے لیے صحت و عافیت ، مال و دولت سے بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی ایک نعمت ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / التوبة والمواعظ والرقائق / حدیث: 2212