حدیث نمبر: 2183
- " يا جد! هل لك في جلاد بني الأصفر؟ ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”جد بن قیس ! کیا تجھے بنوالاصفر سے تلوار کے ساتھ مقابلہ کرنے کی رغبت ہے ؟“ جد نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے (اپنے ساتھ نہ جانے کی) اجازت دے دیں ، کیونکہ میں عورتوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ بنوالاصفر کی بیٹیوں کو دیکھ کر فتنے میں نہ پڑ جاؤں گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے اعراض کرتے ہوئے اسے فرمایا : ”میں نے تجھے اجازت دے دی ہے ۔“ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : «وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا» ”اور ان میں سے کوئی تو کہتا ہے : مجھے اجازت دیجئے ، مجھے فتنے میں نہ ڈالیے ۔ آگاہ رہو ! وہ تو فتنے میں پڑ چکے ہیں۔“ (۹-التوبة:۴۹)