کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: غزوہ بدر کے لیے مشاور ت انصاریوں کا جذبہ جہاد
حدیث نمبر: 2171
- (لما سار رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى بدْرٍ؛ خرج فاستشار الناس، فأشار عليه أبو بكر رضي الله عنه، ثم استشارهم فأشار عليه عمر رضي الله عنه، فسكت، فقال رجل من الأنصار: إنما يريدكم، فقالوا: [تستشيرنا] يا رسول الله؟! والله لا نقول كما قالت بنو إسرائيل لموسى عليه السلام: (اذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون) ! ولكن والله لو ضربت أكباد الإبل حتى تبلغ برك الغِماد؛ لكنّا معك) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف چلے اور لوگوں سے مشورہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مشورہ کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا ، آپ خاموش ہو گئے ۔ ایک انصاری نے کہا: (انصاریو ! ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ ہم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے ، جس طرح بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا: تھا : «فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ”(موسی ! ) تو اور تیرا رب ، تم دونوں جاؤ اور لڑو ، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔“ (۵-المائدة:۲۴) اللہ کی قسم ! اگر آپ ”برک الغماد“ تک سواریوں کو چلاتے رہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلیں گے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان / حدیث: 2171