کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: دوران قتال جبریل و میکائیل کا سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہونا
حدیث نمبر: 2169
- " كان يبعثه البعث فيعطيه الراية، فما يرجع حتى يفتح الله عليه، جبريل عن يمينه، وميكائيل عن يساره. يعني عليا رضي الله عنه ".
حافظ محفوظ احمد
ہیبرہ بن مریم کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: لوگو ! کل ایسے آدمی ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) نے تم کو داغ مفارقت دیا ہے ، کہ پہلے لوگ جس سے سبقت نہ لے سکے اور بعد والے لوگ جس (کے مقام) کو نہ پا سکیں گے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے تو انہیں جھنڈا تھماتے تھے ، وہ اس وقت تک نہ لوٹتے جب تک فتح نہ ہو جاتی ، ان کی دائیں جانب جبریل ہوتے تھے اور بائیں جانب میکائیل ۔ ان کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے درہم چھوڑا ہے نہ دینار ، ماسوائے سات سو درہموں کے اور وہ بھی اس طرح بچ گئے کہ وہ ایک خادم خریدنا چاہتے تھے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان / حدیث: 2169
حدیث نمبر: 2170
- (مع أحدِكُما جبريلُ، ومع الآخر ميكائيلُ؛ وإسرافيلُ ملكٌ عظيمٌ يشهدُ القتال، أو قال: يشهدُ الصفَّ!. قاله لعليٍّ ولأبي بكر) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر والے دن فرمایا : ”تم میں ایک کے ساتھ جبریل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے اور اسرافیل بھی بہت بڑا فرشتہ ہے جو جنگ میں یا جنگ کی صف میں شریک ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان / حدیث: 2170