کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: فتح پر دف بجانے کی نذر پوری کرنا
حدیث نمبر: 2147
- " إن كنت نذرت فاضربي، وإلا فلا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کے لیے نکلے ۔ جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی لڑکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت و سلامتی کے ساتھ لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تو نے (واقعی) نذر مانی ہے تو دف بجالے ، ورنہ نہیں ۔“ اس نے دف بجانا شروع کردیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اس نے اپنے سرین کے نیچے دف رکھ دیا اور اس پر بیٹھ گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمر ! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے ، میں بیٹھا ہوا تھا یہ دف بجاتی رہی ، ابوبکر آئے یہ بجاتی رہی ، پھر علی آئے یہ بجاتی رہی ، پھر عثمان آئے یہ بجاتی رہی ۔ عمر ! تم جب داخل ہوئے تو اس نے دف رکھ دیا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان / حدیث: 2147