حدیث نمبر: 2143
- (إنَّ بأرضِ الحبشةِ مَلِكاً لا يُظلمُ أحدٌ عنده، فالحقُوا ببلادِه حتّى يجعل اللهُ لكم فرجاً ومخرجاً مّما أنتُم فيهِ) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مکہ (کی سرزمین) ہم پر تنگ ہو گئی ، اصحاب رسول کو تکالیف دی گئیں اور انہیں آزمایا گیا اور انہوں نے دیکھا کہ ہم اپنے دین کی وجہ سے جن آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا ہیں ، (فی الحال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رفع رفع نہیں کر سکتے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم اور چچا کی وجہ سے طاقت و عزت حاصل تھی ، اس لیے آپ مکروہات ، جن میں عام صحابہ مبتلا تھے ، سے محفوظ تھے ۔ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : ”حبشہ میں ایک بادشاہ ہے ، اس کی سلطنت میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا ، تم لوگ اس سے جا ملو ، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان مصائب سے کشادگی اور راہ فرار کی کوئی صورت پیدا کر دے ۔“ ہم (نے اس تجویز پر عمل کیا اور ) گروہوں کی شکل میں (مکہ سے ) نکل پڑے اور ایک بہترین مقام پر اور بہترین پڑوسی کے پاس اکٹھے ہو گئے ، اس نے ہم کو ہمارے دین پر اما ن دی اور ہمیں اس کی طرف سے کسی قسم کے ظلم کا اندیشہ نہ رہا ۔ راوی نے طویل حدیث ذکر کی ، اسی طرح یہ روایت سنن میں ہے اور چار صفحات میں مکمل روایت بیان کی ہے ۔