حدیث نمبر: 2129
- " اهج المشركين، فإن جبريل معك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ والے دن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فرمایا : ”( اشعار کے ذریعے ) مشرکوں کی مذمت کرو ، بیشک جبریل ( علیہ السلام ) تمہارے ساتھ ہیں ۔“
حدیث نمبر: 2130
- " إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه، والذي نفسي بيده لكأن ما ترمونهم به نضح النبل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : بیشک : اللہ تعالیٰ نے اشعار کے میں جو کچھ نازل کیا ، وہ نازل کیا (تو اب شعروں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ مومن اپنی تلوار اور زبان دونوں سے جہاد کرتا ہے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو کچھ تم انہیں زبان سے کہتے ہو ( یعنی شعروں کے ذریعے دشمنوں کی مذمت کرتے ہو ) وہ ان پر تیروں کے برسنے کی طرح ( اثر کرتا ہے )۔“
حدیث نمبر: 2131
- " والذي نفسي بيده لكأنما تنضحونهم بالنبل فيما تقولون لهم من الشعر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے ) جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔“