حدیث نمبر: 2116
- (من علِم الرمي ثم تركه؛ فليسَ منّا، أو قد عصَى) .
حافظ محفوظ احمد
عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے رہتے ہو ، حالانکہ تم عمر رسیدہ ہو اور یہ عمل تمہارے لیے باعث مشقت ہو گا ۔ سیدنا عقبہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو اس مشقت میں نہ پڑتا ۔ حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے کہا: وہ کون سی حدیث ہے ؟ انہوں نے کہا: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے تیر اندازی سیکھی اور پھر ترک کر دی ، وہ ہم میں سے نہیں ۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس نے نافرمانی کی ۔“
حدیث نمبر: 2116M
- " ارموا (بني إسماعيل) فإن أباكم كان راميا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی ایک جماعت ، جو تیر اندازی کر رہی تھی، کے پاس سے گزرے اور فرمایا : ”اے اولاد اسماعیل! تم تیراندازی کرو، اس لیے کہ تمہارے باپ بھی تیرانداز تھے۔“
حدیث نمبر: 2117
- " عليكم بالرمي فإنه خير لعبكم ".
حافظ محفوظ احمد
مصعب بن سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم تیراندازی کیا کرو ، کیونکہ یہ بہترین کھیل و تفریح ہے ۔“