کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال . . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت
حدیث نمبر: 2010
(كانَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم قد شَمِطَ مُقدَّمُ رأسِهِ ولحيتِهِ، فإذا ادَّهَنَ ومشَطَ لم يتبيَّنْ، وإذا شَعِثَ رأسُهُ تَبَيَّنَ، وكانَ كَثِيرَ الشَّعرِ واللّحيةِ، فقالَ رجُلٌ: وَجهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قال: لا، بلْ كانَ مِثْلَ الشَّمسِ والقَمَرِ مُسْتدِيراً؛ قال: ورأيتُ خَاتمهُ عِندَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الحمامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے سامنے والے حصے اور داڑھی مبارک کے (کچھ) بال سفید ہو گئے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگاتے اور کنگھی کرتے تو وہ واضح نہیں ہوتے تھے ، لیکن جب آپ کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوتے تو وہ نظر آتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال زیادہ (یعنی گھنے ) تھے ۔ ایک آدمی نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار کی طرح (چمکدار) تھا ؟ پھر کہا: نہیں بلکہ آفتاب و مہتاب کی طرح (چمکتا ہوا) اور گول تھا ۔ انہوں نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر (نبوت) دیکھی، وہ کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور آپ کے جسم سے ملتی جلتی تھی ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 2010
حدیث نمبر: 2011
- " كان شيبه نحو عشرين شعرة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید ہونے والے بال تقریباً بیس تھے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 2011
حدیث نمبر: 2012
- (كانَ في [مَفْرِقِ] رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إذا دَهَنَ رأسَهُ لم تَتَبيَّنْ، وإذا لم يَدهنْهُ تَبيَّنَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ میں چند بال (سفید) تھے ، جب آپ تیل لگاتے تو وہ واضح نہ ہوتے اور جب تیل نہ لگاتے تو وہ نظر آنے لگتے تھے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 2012