کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: عورت کے لیے دور جاہلیت کے طرز کے حمام میں جانا منع ہے
حدیث نمبر: 1996
- (الحمّام حرامٌ على نساء أمتي) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : شام سے آنے والی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں ۔ انہوں نے پوچھا: تمہارا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟ انہوں نے کہا: حمص والوں سے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ حماموں والیاں ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ پھر انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”میری امت کی عورتوں پر حمام میں جانا حرام ہے ۔“ ان میں سے ایک عورت نے کہا: کیا میں اس مشروب کے ساتھ اپنی بیٹیوں کے بالوں میں کنگھی کر سکتی ہوں ؟ انہوں نے پوچھا: کون سا مشروب ؟ اس نے کہا: یہ شراب ۔ انہوں نے فرمایا : ”کیا یہ بات تجھے بھلی لگے گی کہ تو خنزیر کے خون کے ساتھ کنگھی کرے ؟“ اس نے کہا: نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : ”یہ (شراب) خنزیر کے خون کی طرح ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 1996
حدیث نمبر: 1997
- (ما مِن امرأةٍ تنزعُ ثيابَها في غيرِ بيتها؛ إلا هتكتْ ما بينها وبينَ اللهِ من سترٍ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور پوچھا: ”ام درداء ! کہاں سے آ رہی ہو ؟“ میں نے کہا: حمام سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو عورت کسی دوسرے کے گھر میں کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان والا پردہ چاک کر دیتی ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 1997