حدیث نمبر: 1990
- (إنَّه قد أُذِن لَكُنَّ أن تَخْرجْنَ لحاجتكنَّ، وفي رواية: لحوائجكُنَّ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اپنی کسی ضرورت کے لیے نکلیں ، وہ بڑے جسم والی خاتون تھیں ، اس لیے (پہلے سے ) ان کی معرفت رکھنے والا ان کو پہچان لیتا تھا ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر کہا: سودہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم پر مخفی نہیں رہ سکتیں ، خود غور کر لو کہ کیسے نکلتی ہو ؟ وہ واپس لوٹ آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر پر تھے اور شام کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں گوشت والی ہڈی تھی ۔ اتنے میں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اندر داخل ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں اپنے کسی کام کے لیے باہر نکلی تھی ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یوں یوں کہہ دیا ۔ (اسی اثنا میں) اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتارنا شروع کر دی ، پھر وحی والی کیفیت ختم ہو گئی ، اس دوران ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی رہی ۔ پھر فرمایا : ”تمہیں ضرورت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔“