حدیث نمبر: 1970
- " بينما رجل في حلة له وهو ينظر في عطفيه إذ خسف الله به، فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة ".
حافظ محفوظ احمد
کریب کہتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہو جانے کے بعد ابولہب کی گلیوں میں ان کی راہنمائی کرتا تھا ، ایک دن انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ ( سیدنا عباس رضی اللہ عنہما ) سے سنا ، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”ایک آدمی عمدہ پوشاک (زیب تن کرکے ) چل رہا تھا اور خود پسندی کا اظہار کر رہا تھا ، اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو دھنسا دیا ، اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا جائے گا ۔“