کتب حدیث › سلسله احاديث صحيحه › ابواب › باب: مشکیزے کے منہ سے بلاواسطہ پینا کیسا ہے؟
❮
❯
- " نهى عن اختناث الأسقية ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ کو اوپر کی طرف سے موڑ کر اندر کی جانب سے پانی پینے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1924
- " نهى أن نشرب من الإناء المخنوث ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن کے منہ کو اوپر کی طرف موڑ کر اندر کی جانب سے پانی پینے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1924M
- " نهى أن يشرب من في السقاء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے (براہ راست) پانی پینے سے منع کیا ۔ ایوب کہتے ہیں : مجھے پتہ چلا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے پانی پیا ، تو اس کے اندر سے سانپ نکل آیا تھا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1925
- " نهى أن يشرب من في السقاء لأن ذلك ينتنه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ، کیونکہ اس سے وہ بدبودار ہو جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1926