کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بیویوں کے ساتھ دلگی
حدیث نمبر: 1904
- (قُوما فاغسِلا وجوهَكُما، يعني: عائشة وسودة) .
حافظ محفوظ احمد
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں خزیرہ (ایک کھانا جو قیمے اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے ) پکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور سودہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، میں نے سودہ سے کہا: کہ تم بھی کھاؤ ۔ انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا ۔ میں نے کہا: تم یہ ضرور کھاؤ گی یا میں تمہارے چہرے کو اس سے آلودہ کر دوں گی ۔ اس نے پھر بھی انکار کیا ۔ پس میں نے اپنا ہاتھ خزیرہ میں رکھا اور اس کے چہرے پر لگا دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور اس کے لیے اپنی ران رکھ کر سودہ سے فرمایا : تم بھی اس کے چہرے پر لگا دو ۔“ سو اس نے میرا چہرہ بھی آلودہ کر دیا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور آواز دی : او عبداللہ ! او عبداللہ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ وہ ابھی داخل ہونے والے ہیں ، اس لیے ان سے فرمایا کہ ”کھڑی ہو جاؤ اور اپنے چہرے دھو لو ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عائشہ اور سودہ تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ڈرتی رہی ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی ہیبت کا خیال رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1904