کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: ثرید بابرکت کھانا ہے
حدیث نمبر: 1891
حافظ محفوظ احمد
سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تمہیں قربانیوں کا گوشت تین ایام سے زیادہ رکھنے سے اس لیے منع کرتا تھا کہ دولت مند لوگ غریبوں کو فائدہ پہنچا سکیں ۔ اب (چونکہ خوشحالی ہے اس لیے ) جب تک چاہو کھاتے رہو ، کھلاتے رہو اور ذخیرہ کرتے رہو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1891
حدیث نمبر: 1892
- " إنه أعظم للبركة. يعني الطعام الذي ذهب فوره ودخانه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین ایام کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا ۔ میں ایک سفر پر گیا اور پھر اپنے گھر واپس آ گیا ۔ یہ عید الاضحیٰ سے کچھ دنوں کے بعد کی بات ہے ۔ میری بیوی ایک قسم کی سبزی «سلق» (چقندر ) لائی اور اس میں خشک گوشت ڈالا ہو تھا ۔ میں پوچھا: یہ گوشت کے پارچے کہاں سے آ گئے ؟ اس نے کہا: اپنی قربانی کے ہیں۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( قربانیوں کا گوشت ) تین دنوں کے بعد کھانے سے منع نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا :لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رخصت دے دی تھی ۔ لیکن میں نے اپنی بیوی کی تصدیق نہ کی اور اپنے بھائی قتادہ بن نعمان ، جو بدری تھے ، کی طرف پیغام بھیجا اور اس کی بابت پوچھا: ؟ انہوں نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنا (گوشت والا) کھانا کھائیں ، آپ کی بیوی سچی ہے ، واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی رخصت دے دی ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1892