حدیث نمبر: 1887
- " إنا كنا نهيناكم عن لحومها أن تأكلوها فوق ثلاث لكي تسعكم، (فقد) جاء الله بالسعة فكلوا وادخروا واتجروا، ألا وإن هذه الأيام أيام أكل وشرب وذكر الله عز وجل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا نبیثہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہم نے تم کو ( قربانیوں کا ) گوشت تین دنوں ( سے زیادہ ذخیرہ کر کے ) کھانے سے اس لیے منع کیا تھا ، کہ وہ سب کو مل جائے ۔ اب اللہ تعالیٰ نے خوشحالی اور آسودگی پیدا کر دی ہے ، لہٰذا ذخیرہ بھی کر سکتے ہو اور فائدہ بھی اٹھا سکتے ہو ۔ آگاہ ہو جاؤ ! بیشک یہ ایام کھانے پینے اور اللہ عزوجل کا ذکر کرنے کے لیے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1889
- (كُلُوهُ من ذِي الحجَّةِ إلى ذي الحجَّةِ. يعني: لحمَ الأضاحي) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے ، (چار قسم کے ) برتنوں ( کے استعمال) سے اور تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا ۔ لیکن ( کچھ عرصہ کے بعد ) فرمایا : ”بلاشبہ میں نے تم لوگوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، لیکن ( اب حکم دیتا ہوں کہ ) ان کی زیارت کیا کرو ، کیونکہ یہ آخرت یاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا ، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لیے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو اور میں نے تم کو قربانیوں کا گوشت تین ایام سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا ، لیکن (اب کہتا ہوں کہ) جب تک چاہو ، اپنے پاس گوشت روکے رکھو ۔“
حدیث نمبر: 1890
- " كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث ليتسع ذو الطول على من لا طول له، فكلوا ما بدا لكم، وأطعموا وادخروا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی سفر سے واپسی پر ہمارے پاس آئے ، ہم نے (قربانی سے بچا ہوا کچھ گوشت) ان کو پیش کیا تاکہ وہ کھائیں ، لیکن انہوں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا ، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت سوال نہ کر لوں ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(قربانیوں کا گوشت) اس ذوالحجہ سے اگلے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔“