کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: مجبوری میں مردار کھانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1865
- " أعندكم ما يغنيكم؟ قال: لا. قال: فكلوها (يعني الناقة) وكانت قد ماتت ".
حافظ محفوظ احمد
”سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حرہ مقام پر ایک آدمی کی اونٹنی تھی اس نے وہ کسی دوسرے آدمی کو دے دی اور وہ اب بیمار ہو گئی تھی ۔ جب وہ مرنے لگی تو اس کی بیوی نے اسے کہا: (بہتر ہے کہ) آپ اس کو نحر کر دیں تاکہ ہم سب (اس کا گوشت تو) کھا لیں ۔ لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا (اور وہ اونٹنی مر گئی) ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات ذکر کر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس تمہیں کفایت کرنے کے بقدر کوئی چیز ہے ؟“ اس نے کہا: نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو پھر اس (اونٹنی کے مردار) کو کھا لو ۔“ اس وقت وہ اونٹنی مر چکی تھی ۔ اس نے کہا: پس ہم بیس دن تک اس کی چربی اور گوشت کھاتے رہے ۔ پھر ہمیں اس کا پہلا مالک ملا اور پوچھا: تم لوگوں نے اس کو نحر کیوں نہیں کر لیا تھا ؟ میں نے کہا: بس میں آپ سے شرماتا تھا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1865