حدیث نمبر: 1855
- " إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب، فإن كان مفطرا فليأكل، وإن كان صائما فليصل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ، پھر اگر روزے کی حالت میں نہ ہو تو کھا لے اور اگر روزے کی حالت میں ہو تو (داعی کے لیے ) دعا کر دے ۔“
حدیث نمبر: 1856
- عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى أم حرام، فأتيناه بتمر وسمن فقال: " ردوا هذا في وعائه وهذا في سقائه فإني صائم ".
حافظ محفوظ احمد
جناب ثابت ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، ہم کھجور اور گھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ (کجھور) برتن میں اور یہ (گھی) مشکیزے میں واپس کر دو ، کیونکہ میں روزے دار ہوں ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفلی نماز پڑھائی ، ام حرام اور ام سلیم کو ہمارے پیچھے اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا ، جیسا کہ ثابت نے بیان کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چٹائی پر نفلی نماز پڑھائی ۔ جب نماز مکمل کی تو ام سلیم نے کہا: یہ آپ کا پیارا سا خادم انس ہے ، اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں ۔ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دنیا و آخرت کی ہر خیر و بھلائی کی دعا کی ۔ پھر فرمایا : ”اے اللہ ! اس کے مال و اولاد میں کثرت فرما اور پھر اس کے لیے اس میں برکت فرما ۔ انس کہتے ہیں : مجھے میری بیٹی نے بتلایا کہ میری اولاد میں نوے سے زائد افراد ہو چکے ہیں اور انصار کا کوئی آدمی مجھ سے زیادہ مال والا نہیں تھا ۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ثابت ! میں اس انگوٹھی کے علاوہ سونے اور چاندی کا مالک نہیں ہوں ۔