حدیث نمبر: 1850
- " إذا أصلح خادم أحدكم له طعامه فكفاه حره وبرده، فليجلسه معه، فإن أبى فليناوله أكلة في يده ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے ، تو چونکہ اس نے اسے کھانے کی گرمی و سردی سے کفایت کیا ہے ، اس لیے اس (آقا یا مالک) کو چاہیے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے (تاکہ وہ بھی کھانا کھا لے ) اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرتا ہو تو اسے کچھ کھانا تھما دے ۔“
حدیث نمبر: 1851
- " إذا جاء أحدكم خادمه بطعامه فليجلسه فليأكل معه فإن أبى فليناوله منه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے تو وہ اس کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لے ، تاکہ وہ بھی کھانا کھا سکے ، اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرے تو اسے کھانا دے دیا کرے ( تاکہ وہ علیحدہ ہو کر کھا لے ) ۔“
حدیث نمبر: 1852
- " إذا جاء خادم أحدكم بطعامه فليجلسه معه، فإن لم يجلسه معه فليناوله أكلة أو أكلتين، فإنه ولي علاجه وحره ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لے کر آئے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے ، اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھانا چاہتا تو اسے ایک دو لقمے پکڑا دے ، کیونکہ وہ کھانا تیار کرتا رہا اور گرمی برداشت کرتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 1853
- " إذا جاء خادم أحدكم بطعامه فليقعده معه أو ليناوله منه، فإنه هو الذي ولي حره ودخانه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ کہتے ہیں : جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لے کر آئے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے یا پھر اسے (کھانے کے لیے ) کوئی چیز تھما دے ، کیونکہ خادم ہی نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے ۔“