کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نبیذ کب حرام ہوتی ہے؟
حدیث نمبر: 1804
- (كان يصومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنعتُهُ في دُبَّاءٍ، ثم أَتَيْتُهُ به، فإذا هو يَنِشُّ، فقال: اضْرِبْ بهذا الحائطِ، فإنَّ هذا شرابُ مَنْ لا يؤمنُ بالله واليوم الآخر) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ رہے ہیں ، میں نے کدو کے برتن میں نبیذ بنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افطاری کے وقت کی تلاش میں رہا ۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو وہ جوش مار ہی تھی ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو دیوار کے ساتھ دے مارو ، بیشک یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1804