کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: شہد میں شفا ہے
حدیث نمبر: 1632
- " إن كان في شيء من أدويتكم خير ففي شرطة محجم، أو شربة من عسل أو لذعة بنار، وما أحب أن أكتوي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مقنع کی بیمار پرسی کے لیے آئے اور کہا : میں یہیں بیٹھا رہوں گا جب تک تو پچھنے نہیں لگوائے گا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : ”اگر تمہاری دواؤں میں بہتری ہے تو وہ سینگی لگوانے میں یا شہد پینے میں یا داغنے میں ہے ، لیکن میں داغنے کو ناپسند کرتا ہوں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الطب والعيادة / حدیث: 1632
حدیث نمبر: 1633
- " صدق الله، وكذب بطن أخيك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے شہد پلاؤ ۔“ اس نے اسے شہد پلایا اور آ کر کہا : میں نے اسے شہد پلایا ، لیکن اس وجہ سے اسہال میں اضافہ ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اسے یہی حکم دیا ۔ وہ چوتھی دفعہ آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ”اسے شہد پلاؤ ۔“ اس نے کہا : میں نے اسے شہد پلایا ، لیکن دست کی بیماری نے اضافہ ہی ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھٹلا رہا ہے ( یعنی تیرے بھائی کا پیٹ شفا قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا ) ۔“ اس نے جا کر پھر شہد پلایا ، ( اب کی بار ) وہ شفایاب ہو گیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الطب والعيادة / حدیث: 1633
حدیث نمبر: 1634
- (إن كان في شيءٍ شفاءٌ؛ ففي شرطةِ مِحْجَمٍ، أو شَرْبَةِ عَسَلٍ، أو كَيّةٍ تصيبُ ألماً، وأنا أكرهُ الكيَّ ولا أحبُّه)
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر کسی چیز میں شفا ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ، شہد پینے میں یا داغنے میں ہے ، لیکن میں داغنے کو مکروہ سمجھتا ہوں اور اسے پسند نہیں کرتا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الطب والعيادة / حدیث: 1634