حدیث نمبر: 1596
- " استرقوا لها فإن بها النظرة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچی دیکھی ، جس کا چہرہ سرخی مائل سیاہ تھا اور فرمایا : ”اسے دم کرواؤ اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔“
حدیث نمبر: 1597
- " ما لصبيكم هذا يبكي؟ فهلا استرقيتم له من العين؟ ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور بچے کے رونے کی آواز سنی اور پوچھا : ”اس بچے کو کیا ہوا ، یہ کیوں رو رہا ہے ؟ تم نے اسے نظر کا دم کیوں نہیں کروایا ؟ ۔“
حدیث نمبر: 1598
- " كان يأمرها (يعني عائشة) أن تسترقي من العين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نظر سے دم کروانے کا حکم دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1599
- " كان يؤمر العائن فيتوضأ ثم يغتسل منه المعين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر لگانے والے کو وضو کا حکم دیتے اور اس پانی سے اس آدمی کو غسل کا حکم دیتے جسے نظر بد لگی ہوتی ۔
حدیث نمبر: 1600
- " العين حق ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نظر حق ہے ، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی ، جب تم سے ( نظر کے علاج کے لیے ) غسل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم غسل کر دیا کرو ۔“