حدیث نمبر: 1569
- " من استعف أعفه الله ومن استغنى أغناه الله ومن سأل الناس وله عدل خمس أواق ، فقد سأل إلحافا ".
حافظ محفوظ احمد
مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتا ، تاکہ ان سے کچھ مانگ لائے ، جیسا کہ دوسرے لوگ ان سے سوال کرتے رہتے ہیں ؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا ، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ” جس نے پاکدامنی اختیار کی ، الله تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بےنیاز ہونا چاہا ، الله اسے بے نیاز کر دے گا ۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس اوقیہ ہوں اور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار ہو گا ۔ “ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے ۔ اس بنا پر میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہ کیا ۔