حدیث نمبر: 1547
- (إنّ إبليس! يضعُ عرشهُ على الماءِ (وفي طريق: البحر) ، ثم يبعثُ سراياهُ؛ فأدناهُم منه منزلةُ أعظمُهم فتنةً، يجيءُ أحدُهم فيقولُ: فعلتُ كذا وكذا، فيقولُ: ما صنعتَ شيئاً، ثمَّ يجيءُ أحدُهم فيقولُ: ما تركتُه حتى فرّقتُ بينهُ وبين امرأتهِ، فيُدنِيه منه ويقولُ: نِعم أنت! قال الأعمش: أراه قال: فيلتزِمُه) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابلیس پانی پر (ایک روایت کے مطابق سمندر پر) اپنا تخت رکھتا ہے ، پھر (لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے) اپنے لشکروں کو روانہ کرتا ہے ۔ سب سے بڑا فتنہ برپا کرنے والا (شیطان) منزلت میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔ ایک واپس آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسے ایسے کیا ۔ ابلیس کہتا ہے: تو نے تو کچھ نہیں کیا ۔ ایک دوسرا آ کر کہتا ہے: میں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے مابین جدائی نہیں ڈال دی ۔ وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: واہ تیری کیا بات ہے! “ اعمش روی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یہ الفاظ بھی نقل کئے: ” پھر وہ اسے اپنے گلے لگا لیتا ہے ۔ “