حدیث نمبر: 1515
- " ادفعوها إلى خالتها، فإن الخالة أم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم مکہ سے نکلے ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور آواز دی : میرے چچا جان ! میرے چچا جان ! سو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا : یہ تیرے چچا کی بیٹی ہے ، اس کو اپنی نگہداشت میں رکھ ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو اس کے بارے میں، میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ تینوں جھگڑنے لگے ۔ میں نے کہا : میں اس کو لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ۔ زید نے کہا : یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فیصلہ کرتے ہوئے ) جعفر سے فرمایا : ” تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہے ۔ “ زید سے فرمایا : ” تو ہمارا بھائی اور دوست ہے ۔ “ اور مجھ ( علی ) کو فرمایا : ” تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔ اس طرح کرو کہ یہ بچی اس کی خالہ کے حوالے کر دو ، کیونکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے ۔ “ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کے لیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میری رضائی بھتیجی ہے ۔ “