حدیث نمبر: 1510
- " هذه بتلك السبقة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھی ، اس وقت میں ( کم سن ) لڑکی تھی اور موٹے بدن والی نہیں تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ آگے نکل جاؤ ۔ “ سو وہ آگے نکل گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ” آؤ ، میں تجھ سے ( دوڑ میں ) مقابلہ کرتا ہوں ۔ “ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، بعد میں میں موٹے بدن والی ہو گئی اور اس واقعہ کو بھول گئی ۔ ( پھر ایک دن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ آگے نکل جاؤ ۔ “ پس وہ آگے نکل گئے ۔ پھر مجھے فرمایا : ” آؤ ، میں تم سے ( دوڑ میں ) مقابلہ کرتا ہوں ۔ “ میں پہلے والے مقابلے کو بھول چکی تھی ، چونکہ میرا بدن بھاری ہو چکا تھا اس لیے میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری یہ حالت ہے ، میں آپ سے کیسے مقابلہ کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے ایسا ضرور کرنا ہو گا ۔ “ پس میں نے مقابلہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگ گئے اور فرمایا : ” یہ اس ( سابقہ ) فتح کے بدلے میں ہے ۔ “