حدیث نمبر: 1504
- " ألا ترين أني قد حلت بين الرجل وبينك. يعني أبا بكر الصديق وابنته عائشة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی ۔ انہوں نے سن لیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئے اور کہا : ام رومان کی بیٹی ! اور اسے پکڑنا چاہا ، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے درمیان حائل ہو گئے ۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرتے ہوئے فرمایا : ” دیکھو تو سہی میں تیرے اور ایک آدمی کے درمیان حائل ہو گیا ۔ “ ( اسی اثنا میں ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر آ گئے اور اجازت طلب کی اور سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہنسا رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اندر آنے کی ) اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ۔ ( اب کی بار ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنے امن و صلح والے ماحول میں بھی شریک کیجئیے ، جس طرح اپنی لڑائی میں کیا تھا ۔